Friday, September 23, 2011

What is the ruling on someone who deliberately abandons Friday prayer without any valid reason, and then prays Thuhr, is his prayer valid or not?

Question: 

What is the ruling on someone who deliberately abandons Friday prayer without any valid reason, and then prays Thuhr, is his prayer valid or not? 
Fatwa
All perfect praise be to Allaah, The Lord of the Worlds. I testify that there is none worthy of worship except Allaah, and that Muhammad  sallallaahu `alayhi wa sallam ( may Allaah exalt his mention ) is His slave and Messenger.


It is not permissible to abandon Friday prayer without any sound religious reason and whoever does so, has disobeyed Allaah and subjects himself to the severe threat mentioned in the Prophetic narration.

The Prophet  sallallaahu `alayhi wa sallam ( may Allaah exalt his mention ) said: "People should stop missing Friday prayers otherwise Allaah will put a seal on their hearts and thus they will be among the heedless." [Muslim]

The threat is multiplied and increased if a person misses three Friday prayers or more.

The Prophet  sallallaahu `alayhi wa sallam ( may Allaah exalt his mention ) said: "Whoever misses three Friday prayers out of negligence, Allaah will seal his heart." [Ahmad].

Furthermore, the scholars may Allaah have mercy upon them considered missing Friday prayer without any valid reason as on of the great major sins.

Ibn Al-Qayyim may Allaah have mercy upon him said: 'Among the great major sins is missing Friday prayer, as the Prophet  sallallaahu `alayhi wa sallam ( may Allaah exalt his mention ) said:

"People should stop missing Friday prayers otherwise Allaah will put a seal on their hearts and thus they will be among the heedless." [Muslim].'

So this is the ruling on missing Friday prayer without any valid reason.

As regards what one should do when he misses Friday prayer, he has to pray Thuhr prayer with the intention of Thuhr whether he missed it with a sound reason or without a valid reason, however, he is sinful in missing it without a sound reason. Nonetheless, his Thuhr prayer is valid if he prays Thuhr after the Imaam has prayed the Friday prayer. If he prays Thuhr before the Imaam prays Friday prayer then his prayer is not accepted and he has to pray Thuhr again as Ibn Qudaamah may Allaah have mercy upon him said.

However, he has to repent to Allaah from this disobedience and he should not to be neglectful about Allaah's obligations on him, and he should remember the bounties of Allaah which He bestowed on him. He created him as a Muslim and gave him the ability to attend the Friday prayers and endeavouring in his general benefits and affairs, so he should not be deficient in fulfilling Allaah's obligations on him.


Allaah Knows best.

Thursday, September 15, 2011

سید الشہداء حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ

سید الشہداء حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ
 
 
آپ ہیں دین کے نگہبان جناب حمزہ رضی اللہ عنہ
ہے اٹل اپنا یہ ایقان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

ناز کرتی ہے تواریخ شجاعت پہ ُہنوز
قابل رشک ہے یہ شانِ جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

جس جگہ نوش کیا جام شہادت بے خوف
ہے شفق زار وہ میدان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

انتہا ہے یہ محمدؐ سے وفاداری کی
کر گئے جان بھی قربان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

دل میں قندیل عقیدت ہی رہیگی روشن
ہے جسے آپ کا عرفان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

بن گئی شمع رسالت کے لئے اک فانوس
جب اُٹھا کُفر کا طوفان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

خواب ہی میں کبھی دیدار میّسر ہو مجھے
ہے میرے دل کا یہ ارمان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

ماری اس زور سے بو جہل کے چہرے پہ کمان
قوت کفر تھی حیران جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ

بزم ہستی میں ہمیشہ ہی رہے گا چرچا
ہے یہ الطاف کا ایمان جناب حمزہ رضی اللہ عنہ
 

Profound Regards
Muhammad Imran Ghafoor
Radio Frequency Planing Engineer
Huawei Technologies,Ufone Noc
Lahore
Cell# 03016797582

���Always trust in ALLAH andnever lose your hope, even you are too much depressed.���

15th Shawwal al-Mukarram] Hadrat Sayyid ash-Shuhada Sayyiduna Hamzah Radi Allahu Ta'ala Anhu



مناقب سید الشہداء
حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ
بِسْمِ اللہ ِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (بقرہ:١٥٤)
جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو، وہ تو زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں
  یہ سید الشہداء ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرنے والوں کے سردار، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مبارک چچاحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب ہیں، جن کے موتیوں کو پرونے اور جن کی چمک دمک ظاہر کرنے کا فریضہ خاندان نبوت اور علمی خانوادے کے گوہرشب تاب مشہور''مولد نبوی'' (مولود برزنجی) اور شہداء بدر کے اسماء گرامی پر مشتمل کتاب '' جالیۃ الکدر فی نظم اسماء شھداء بدر'' اور دیگر مفید اور جلیل کتب کے مصنف حضرت علامہ سید جعفر بن حسن برزنجی رحمۃ اللہ علیہ نے سر انجام دیا ہے۔

یہ حضرت سید الشہداء رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم مناقب ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے جان کی بازی لگادی ، غزوہ احد میں جن کی شہادت پر ہمارے آقا ومولا اور حبیب مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوئے، اس غزوہ کے اسلامی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، وہ تاریخ جس کی بنیاد ان جانبازوں نے رکھی۔ یہ مناقب حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہونے والوں کے لیے کئی اسباق اور نصیحتیں اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہیں۔

 یہ دلکش اور روح پرور باغ ہے جس کی باد صبا حضرت سید الشہداء حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے احوال کی خوشبو سے معطر ہے اور اس کی جودوسخا کی بارش، حضرت سید الشہداء کے ہمراہ جام شہادت نوش کرنے والے خوش بختوں کے موتیوں جیسے ناموں سے سیراب ہوتی ہے، ان حضرات نے دین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنی جانوں کی بازی لگادی اور اسلام کے پھیلاؤ کا راستہ ہموار کردیا۔

میرے دل میں اس باغ کے گھنے درختوں میں داخل ہونے، اس کے حوضوں کے چشموں سے سیراب ہونے، نور کے برجوں سے موتیوں کی بارش طلب کرنے اور ان موتیوں کو مندرجہ ذیل سطور کی لڑی میں پرونے کا خیال پیدا ہوا، تاکہ انہیں حضرت سید الشہداء کے مزار مقدس کے پاس مقرر عمل (ایصال ثواب) کے بعد پڑھا جائے، خصوصاً آپ کی خصوصی زیارت (٢) کی رات جس کی روشن صبح ابر آلود نہیں ہوتی بلکہ اجلی اجلی ہوتی ہے، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اور باکمال بندوں کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی موسلادھار بارشیں حاصل کی جائیں۔

میں کہتا ہوں کہ وہ سیدنا حمزہ ابن عبد المطلب بن ہاشم، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں، ابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ نے ان دونوں ہستیوں اور حضرت ابو سلمہ ابن عبد الاسد مخزومی (حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پہلے شوہر) کو دودھ پلایا تھا۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عمر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے دو سال اور ایک قول کے مطابق چار سال زیادہ تھی (٣)، ان دونوں ہستیوں کو مختلف اوقات میں (٤) دودھ پلایاگیا، حضرت سیدالشھداء اور حضرت صفیہ (نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی) کی والدہ، ھالہ بنت اھیب بن عبد مناف بن زہرہ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی چچا زاد بہن تھیں۔

آپ کی اولاد میں سے پانچ بیٹے تھے، چار کے نام یہ ہیں:

١۔ یعلی (٥) ٢۔عمارۃ (٦) ٣۔عمرو   اور  ٤۔ عامر

دو بیٹیاں تھیں:

١۔ ام الفضل (٧) ٢۔امامہ (٨) اس وقت حضرت سید الشھداء کی اولاد میں سے کوئی نہیں ہے (٩)

اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامد نا بالا سرار التی اودعتھا لدیہ

اے اللہ! ان پر رحمت و رضوان کی موسلادھار بارش ہمیشہ برسا اور جو اسرار تو نے ان کے پاس امانت رکھے ہیں، ان کے ساتھ ہماری امداد فرما۔ حضرت سید الشہداء بہادر، سخی، نرم خوش اخلاق، قریش کے دلاور جوان اور غیرت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔

بعثت کے دوسرے سال (١٠) اور ایک قول کے مطابق چھٹے سال (١١) مشرف باسلام ہوئے، اسلام لانے کے دن انہوں نے سنا کہ ابو جہل،نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہہ رہا ہے تو آپ نے حرم مکہ شریف میں اس کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر کھل گیا۔ (١٢)

حضرت حمزہ نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی ۔۔۔۔۔۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے دین کا کھل کر پرچار کیجئے! اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دے دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہنا پسند نہیں کروں گا، ان کے اسلام لانے سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تقویت حاصل ہوئی اور مشرکین آپ کی ایذا رسانی سے کسی حد تک رک گئے، بعد ازاں ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے جو پہلا جھنڈا تیار کیا وہ سید الشہداء ہی کے لیے تھا (١٣)، جب ٢ھ / ٦٢٣ء میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قوم جھینہ کے علاقے میں سیف البحر کی طرف (ایک دستے کے ہمراہ) بھیجا، جیسے کہ مدائنی نے کہا ہے (١٤)۔

ابن ہشام نے سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ اشعار نقل کیے ہیں (١٥)۔

فما برحوا حتی انتدبت بغارۃ
لھم حیث حلوا ابتغی راحتہ الفضل
بامر رسول اللہ اول خافق
علیہ لو لم یکن لاح من قبلی
 
وہ اسلام دشمنی سے باز نہیں آئے یہاں تک کہ میں ان کے ہر ٹھکانے پر حملے کے لیے آگے بڑھا، فضیلت کی راحت حاصل کرنا میرا مقصود تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر میں پہلا تلوار چلانے والا تھاجس کے سر پر جھنڈا تھا، یہ جھنڈا مجھ سے پہلے ظاہر نہ ہوا تھا۔
حضرت سید الشہداء جنگ بدر میں اس حال میں شامل ہوئے کہ انہوں نے شتر مرغ (١٦) کا پر اپنے اوپر بطور نشان لگایا ہوا تھا ، انہوں نے اس جنگ میں زبردست جانبازی کا مظاہرہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے آگے دو تلواروں (١٧) کے ساتھ لڑتے رہے،کفارکے سورماؤںکو بکھیر دیا اور مشرکین کو کاری زخم لگائے (١٨) ۔

حضرت سید الشہداء رضی اللہ تعالی عنہ جنگ احد کے دن خاکستری اونٹ اور پھاڑنے والے شیر دکھائے دیتے تھے، انہوں نے اپنی تلوار سے مشرکین کو بری طرح خوف زدہ کردیا، کوئی ان کے سامنے ٹھہرتا ہی نہ تھا۔

غزوہ احد میں آپ نے اکتیس مشرکوں کو جہنم رسید کیا، جیسا کہ امام نووی رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نے بیان فرمایا (١٩)، پھر آپ کا پاؤں پھسلا تو آپ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گرگئے، زرہ آپ کے پیٹ سے کھل گئی، جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے خنجر پھینکااور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں آپ کو مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمایا، یہ واقعہ ہفتے کے دن نصف شوال کو ٣ھ (٢٠) یا ٤ھ (٢١) (٦٢٤ء یا ٦٢٥ء) کو پیش آیا، اس وقت آپ کی عمر ٥٧ سال تھی۔ ایک قول کے مطابق آپ کی عمر شریف ٥٩ سال(٢٢) اور ایک دوسرے قول کے مطابق ٥٤ سال تھی۔(٢٣)

پھر مشرکین نے آپ کے اعضاء کاٹے اور پیٹ چاک کیا ، ان کی ایک عورت نے آپ کا جگر نکال کر منہ میں ڈالا اور اسے چبایا، لیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی، ناچا ر صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے تھوک دیا۔ (٢٤)

جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:

اگر یہ جگر اس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ عورت آگ میں داخل نہ ہوتی، (٢٥) کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حمزہ کی اتنی عزت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔ ( 
٢٦)
جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے مثلہ کیے ہوئے جسم کو دیکھا، تو یہ منظر آپ کے دل اقدس کے لیے اس قدر تکلیف دہ تھا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزراتھا، اسے دیکھ کر آپ کو جلال آگیا، آپ نے فرمایا:

''تمھارے جیسے شخص کے ساتھ ہمیں کبھی تکلیف نہ دی جائیگی، ہم کسی ایسی جگہ کھڑے نہیں ہوئے جو ہمیں اس سے زیادہ غضب دلانے والی ہو۔''

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔ (٢٧)
ترجمہ: ''اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی دو جتنی تمہیں تکلیف دی گیئ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے، آپ صبر کیجئے! اور آپ کا صبر اللہ ہی کے بھروسے پر ہے، آپ ان کے بارے میں غمگین اور تنگ دل نہ ہوں ان کے فریبوں کے سبب، بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور ان کے ساتھ جو نیکوکار ہیں۔''

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا : ''اے رب ! بلکہ ہم صبر کریں گے۔''

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

'' اے چچا! آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، کیونکہ آپ جب تک عمل کرتے رہے، بہت نیکی کرنے والے اور بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔''(٢٨)

پھر ان کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور ان کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس شدت سے روئے کہ قریب تھا کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے:

'' اے اللہ تعالیٰ کے رسول کے چچا! ـــــــــــ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر!ـــــــــــ اے حمزہ! اے نیک کام کرنے والے!ـــــــــــــ اے حمزہ! مصیبتوں کے دور کرنے والے ـــــــــــــ اے حمزہ! ــــــــــــ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے والے!'' (٢٩)

یہ بھی فرمایا: ہمارے پاس جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ حضرت حمزہ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہوا ہے:

'' حمزہ ابن عبد المطلب، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر ہیں ۔'' (٣٠)

حاکم نیشاپوری، مستدرک میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان) روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت حمزہ ابن عبد المطلب شفاعت کرنے والوں کے سردار ہیں۔ (٣١)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

افمن وعدناہ وعدا حسنا فھو لاقیہ (٣٢)۔
(کیا جس شخص سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے وہ اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔)

سدی کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت حمزہ کے بارے میں نازل ہوئی۔(٣٣)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یاایتھا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ (٣٤)
ترجمہ: '' اے اطمینان والی جان! تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔''

سلفی کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت حمزہ ہیں۔ (٣٥)

 
 
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اسے آپ کے سر پر پھیلاتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور پاؤں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہوجاتا، چنانچہ وہ چادر آپ کے سر پر پھیلادی گئی اور پاؤں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دی گئی۔ (٣٦)

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، یہی زیادہ صحیح ہے (٣٧)، یا ان کی نماز جنازہ کا نہ پڑھنا ان کی خصوصیت ہے (٣٨)۔ انہیں ایک ٹیلے پر دفن کیا، جہاں اس وقت ان کی قبر انور مشہور ہے (٣٩) اور اس پر عظیم گنبد ہے، یہ گنبد خلیفہ الناصر لدین اللہ احمد بن المستضئی العباسی کی والدہ نے ٥٩٠ ھ میں تعمیر کروایا۔

کہا جاتا ہے کہ قبر میں ان کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن جحش (٤٠) اور حضرت مصعب بن عمیر(٤١)، بعض علماء نے کہا کہ حضرت شماس بن عثمان ہیں، آپ کے مزار شریف کے سرہانے سید حسن بن محمد بن ابی نمی کے بیٹے عقیل کی قبر ہے، مسجد کے صحن میں بعض سادات امراء کی قبریں ہیں۔

اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامدنا بالا سرار التی اود عتھا لدیہ

جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غزوہ احد کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو انصار کی عورتوں کو اپنے شہیدوں پر روتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا:

''لیکن حمزہ پر کوئی رونے والیاں نہیں ہیں (٤٢)۔''

اور آپ پر گریہ طاری ہوگیا، انصار نے اپنی عورتوں کو حکم دیا کہ اپنے شہیدوں سے پہلے حضرت حمزہ پر روئیں، ایک مدت تک انصار کی خواتین کا معمول یہ رہا کہ وہ جب بھی کسی میت والے گھر جاتیں تو پہلے حضرت حمزہ پر روتیں (٤٣)۔

حضرت کعب بن مالک انصاری اپنے قصیدے میں اظہار غم کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ولقد ہددت لفقد حمزہ ھدۃ
ظلت بنات الجوف منھا ترعد
ولو انہ فجعت حراء بمثلہ

لرایت راسی صخرھا یتھدد
قرم تمکن من ذؤابہ ھاشم
حیث النبوۃ والندا والسؤدد
والعاقر الکوم الجلاد اذا غدت

ریح یکاد الماء منھا یجمد
والتارک القرن الکمی مجندلا
یوم الکریھۃ والقنا یتقصد
وتراہ یرفل فی الحدید کانہ

ذو لبدۃ شثن البراثن اربد
عم النبی محمد و صفیہ
ورد الحمام فطاب ذاک المورد
وافی المنیۃ معلما فی اسرۃ

نصروا النبی ومنھم المستشھد
اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامد نا بالا سرار التی اود عتھا لدیہ (٤٤)
 
حضرت حمزہ کے رحلت فرما جانے سے مجھ پر ایسا صدمہ ہوا ہے کہ میرا دل اور جگر لرز اٹھے ہیں۔
ایسا صدمہ اگر جبل حرا کو پہنچایا جاتا تو دیکھتا کہ اس کی چٹانوں کے دونوں کنارے تھرا اٹھتے۔
وہ ہاشمی خاندان کے معزز سردار تھے جہاں نبوت، سخاوت اور سرداری ہے۔
وہ طاقتور جانوروں کے گلے کو ذبح کرنے والے تھے جب ٹھنڈی ہوا سے پانی جمنے کے قریب ہوتا تھا (یعنی سخت سردی کے موسم میں)
جنگ کے دن جب نیزے ٹوٹ رہے ہوں وہ بہادر مد مقابل کو کشتہ تیغ بنادیتے تھے۔
تو انہیں مسلح ہوکر فخر سے چلتا ہوا دیکھتا (تو کہتا کہ) وہ خاکستری رنگ والا، مضبوط پنجوں والا، ایال دار(شیر) ہے۔
وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور برگزیدہ اصحاب میں سے ہیں، انہوں نے موت کے منہ میں چھلانگ لگائی تو وہ جگہ خوشگوار ہوگئی۔
انہوں نے اس حال میں موت سے ملاقات کی کہ ان پر(شتر مرغ کے پر کا) نشان لگا ہوا تھا، وہ مجاہدین کی ایسی جماعت میں تھے جس نے نبی اکرم اکی امداد کی اور ان میں سے کچھ لوگ مرتبہ شہادت پر فائز ہوگئے۔
ان کے علاوہ جن حضرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس دن شہادت سے نوازے گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعمال صالحہ کی اچھی خبر اور زیادہ اجر دیا گیا، ان کے ناموں کی فہرست حسب ذیل ہے۔ (٤٥)

اے اللہ! اس روشن انوار والی بارگاہ کے صاحب (حضرت حمزہ) کے طفیل ہماری دعا ہے کہ ہم سب کو آتش جہنم کے شعلوں سے رہائی عطا فرما، کدورتیں دور فرما، ہلاکتوں سے محفوظ فرما، بکثرت بارشیں عطا فرما، اشیاء ضرورت سستی فرما، اطراف و جوانب کو امن عطا فرما، قریب و بعید اور پڑوسیوں پر رحم فرما، ارباب حکومت اور رعایا کی اصلاح فرما، اسلامی لشکروں اپنی نصرت سے تقویت عطا فرما، اپنے دشمن کافروں میں اپنے قہر کا حکم نافذ فرما اور انہیں مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بنا۔

اے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر! ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کی درخواست قبول کی جائیگی، ہم نے اپنی امیدوں کی کجاوے آپ کی بارگاہ میں اتارے ہیں، آپ کے دربار کرم میں حاضر ہیں، آپ کی شان یہ نہیں ہے کہ آپ ہمیں نظر انداز کر دیں، ہم نے آپ کی جود و سخا کے بھر پور برسنے والے بادلوں سے بارش طلب کی ہے۔

یارب قد لذنا بعم نبینا
رب المظاھر قدست اسرارہ
فا قل عثار من استجار بعمہ
او زارہ لتکفرن اوزارہ
والطف بنا فی المعضلات فاننا
بجوار من لا شک یکرم جارہ
واختم لنا باالصالحات اذ دنا
منا الحمام وانشب اظفارہ
ثم الصلاۃ علی سلالۃ ھاشم
من طاب محتدہ و طاب نجارہ
والآل والصحب الکرام اولی التقی
صید الانام ومن ھم انصارہ
ما انشدت طرباً مطوقۃ الشظی
او ناح بالالحان فیہ ھزارہ

اے رب کائنات! ہم نے مظہر نعمت و قدرت اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا کی پناہ لی ہے، انکے اسرار کو تقدس عطا کیا جائے۔
اس شخص کی لغزشوں کو معاف فرما جس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے محترم چچا کی پناہ لی ہے یا گناہوں کی مغفرت کے لیے انکی زیارت کی ہے۔
مشکلات میں ہم پر مہربانی فرما، کیونکہ ہم اس ہستی کے جوار میں ہیں جو بلا شک و شبہ اپنے پڑوسیوں کی عزت افزائی کرتی ہے۔
جب موت ہم سے قریب ہو اور اپنے پنجے گاڑ دے تو اعمال صالحہ پر ہمارا خاتمہ فرمانا پھر صلوۃ و سلام ہو بنو ھاشم کے خلاصہ پر جنکا حسب و نسب تیب و طاہر ہے۔
اور مخلوق کے سرداروں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مددگاروں، اور تقویٰ شعار آل پاک اور صحابہ کرام پر صلوٰۃ وسلام ہو۔
جب تک کسھی دار کبوتر مسرت بھرے لہجے میں چہچہاتے رہیں یا بلبل ہزاز داستان دلکش آوازوں کے ساتھ نغمہ سرا رہے۔

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ۔ وَالحَمدُ لِلَّہِ رَبِّ العَالِمِین
 
 
 

Thursday, September 1, 2011

اسلامی سال کا دسواں مہینہ ۔۔۔ شوال المکرم

اسلامی سال کا دسواں مہینہ ۔۔۔ شوال المکرم

http://www.vectralogix.com/irfan/Eid1.jpg
 
شوال کی وجہ تسمیہ:

اسلامی سال کے دسویں مہینے کا نام شوال المکرم ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ ''شَول ''سے ماخوذ ہے جس کا معنی اونٹنی کا دُم اٹھانا (یعنی سفر اختیار کرنا) ہے۔ اس مہینہ میں عرب لوگ سیر و سیاحت اور شکار کھیلنے کے لئے اپنے گھروں سے باہر چلے جاتے تھے۔ اس لئے اس کا نام شوال رکھا گیا۔

اس مہینہ کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے جس کو یوم الرحمۃ بھی کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت فرماتا ہے۔ اور اسی روز اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو شہد بنانے کا الہام کیا تھا۔ اور اسی دن اللہ تعالیٰ نے جنت پیدا فرمائی۔ اور اسی روز اللہ تبارک و تعالیٰ نے درختِ طوبیٰ پیدا کیا۔ اور اسی دن کو اللہ عزوجل نے سیدنا حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وحی کے لئے منتخب فرمایا۔ اور اسی دن میں فرعون کے جادوگروں نے توبہ کی تھی۔ (فضائل ایام و الشہور ، صفحہ ٤٤٣،غنیہ الطالبین صفحہ٤٠٥، مکاشفۃ القلوب صفحہ٦٩٣)

اور اسی مہینہ کی چوتھی تاریخ کو سید العالمین رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نجران کے نصرانیوں کے ساتھ مباہلہ کےلئے نکلے تھے اور اسی ماہ کی پندرہویں تاریخ کو اُحد کی لڑائی ہوئی۔ جس میں سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہوئے تھے اور اسی ماہ کی پچیس تاریخ سے آخرِ ماہ تک جتنے دن ہیں وہ قوم عاد کے لئے منحوس دن تھے جن میں اللہ جل شانہ، نے قوم عاد کو ہلاک فرمایا تھا۔ (فضائل ایام والشہور صفحہ ٤٤٤، بحوالہ عجائب المخلوقات صفحہ ٤٦)

 
شوال کی فضیلت:

یہ مبارک مہینہ وہ ہے کہ جو حج کے مہینوں کا پہلا مہینہ ہے (یعنی حج کی نیت سے آغاز ِسفر) اسے شَہْرُ الْفِطْر بھی کہتے ہیں اس کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے ۔ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشش کا مژدہ سناتا ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔

اِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِہِمْ یَعْنِیْ یَوْمَ فِطْرِہِمْ بَاہـٰی بِہِمْ مَلَائِکَتَہ، فَقَالَ مَاجَزَآءُ اَجِیْرٍ وَفّٰی عَمَلَہ، قَالُوْرَبَّنَا جَزَآءُ ہ، اَنْ یُّوَفّٰی اَجْرُہ، قَالَ مَلَائِکَتِیْ عَبِیْدِیْ وَاِمَائِیْ قَضَوْ فَرِیْضَتِیْ عَلَیْہِمْ ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ اِلَی الدُّعَآءِ وَ عِزَّتِیْ وَجَلَالِیْ وَکَرَمِیْ وَ عُلُوِّیْ وَارْتِفَاعِ مَکَانِیْ لَاُجِیْبَنَّہُمْ فَیَقُوْلُ ارْجِعُوْا قَدْغَفَرْتُ لَکُمْ وَ بدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ قَالَ فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّہُمْ ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان (مشکوٰۃ صفحہ ١٨٣)
جب عید کا دن آتا ہے یعنی عید الفطر کا دن ۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا مزدوری ہے جس نے اپنا کام پورا کیا ہو ۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اے میرے فرشتو! میرے بندوں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو ادا کردیا ہے پھر وہ (عیدگاہ کی طرف) نکلے دعا کیلئے پکارتے ہوئے ۔ اور مجھے اپنی عزت و جلال اور اکرام اور بلندی اور بلند مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا قبول کروں گا ۔ پس فرماتا ہے اے میرے بندو! لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا۔ اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ ان کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کو جس نے ماہِ رمضان میں روزے رکھے، عید الفطرکی رات میں پورا پورا اجر عطا فرمادیتا ہے اورعید کی صبح فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ زمین پر جاؤ اور ہر گلی، کوچہ اور بازار میں اعلان کردو (اس آواز کو جن و انس کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں! اپنے رب کی طرف بڑھو وہ تمہاری تھوڑی نماز کو قبول کرکے بڑا اجر عطا فرماتا ہے اور بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیتا ہے پھر جب لوگ عید گاہ روانہ ہوجاتے ہیں اور وہاں نماز سے فارغ ہوکر دعا مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس وقت کسی دعا اور کسی حاجت کو رد نہیں فرماتا اور کسی گناہ کو بغیر معاف کئے نہیں چھوڑتا اور لوگ اپنے گھروں کو ''مغفور'' ہو کر لوٹتے ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٤٠٥)

عید کے دن شیطان کا رونا

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہر عید کے دن ابلیس چلا کر روتا ہے ۔ دوسرے شیاطین اس کے پاس جمع ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں : اے ہمارے سردار آپ کیوں ناراض ہیں ؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو معاف کردیا۔ اب تم پر لازم ہے کہ انہیں شہوات و لذّات میں ڈال کر غافل کردو (مکاشفۃ القلوب صفحہ٦٩٣)

 
عید کی وجہ تسمیہ:

عید کو عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن اپنے بندوں کی طرف فرحت و شادمانی باربار عطا کرتاہے یعنی عید اور عود ہم معنی ہیں ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو منافع، احسانات اور انعامات حاصل ہوتے ہیں یعنی عید عوائد سے مشتق ہے اور عوائد کے معنی ہیں منافع کے یا عید کے دن، بندہ چونکہ گریہ و زاری کی طرف لوٹتا ہے اور اس کے عوض اللہ تعالیٰ بخشش و عطا کی جانب رجوع فرماتا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بندہ اطاعت الٰہی سے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرتا اور فرض کے بعد سنت کی طرف پلٹتا ہے، ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد ماہ شوال کے چھ روزوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اسلئے اس کو عید کہتے ہیں عید کی وجہ تسمیہ کے متعلق بعض علماء کا کہنا ہے کہ عید کو اس لئے عید کہا گیا ہے کہ اس دن مسلمانوں سے کہا جاتا ہے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کہ اب تم مغفور ہو کر اپنے گھروں اور مقامات کو لوٹ جاؤ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ اس کو عید اس لئے کہا گیا کہ اس میں وعدہ و وعید کا ذکر ہے ، باندی اور غلام کی آزادی کا دن ہے، حق تعالیٰ اس دن اپنی قریب اور بعید مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے ، کمزور و ناتواں بندے اپنے رب کے سامنے گناہوں سے توبہ اور رجوع کرتے ہیں ۔ (غنیہ الطالبین صفحہ٤٠٤ اور ٤٠٥)


http://www.vectralogix.com/irfan/Des5.jpg
 
عید منانے کا اسلامی طریقہ

عید الفطر کے مستحب کام :

(١) حجامت بنوانا (٢) ناخن ترشوانا (٣) غسل کرنا (٤) مسواک کرنا (٥) اچھے کپڑے پہننا نیا ہو تو بہتر ورنہ دھلا ہوا ہو ۔ (٦) ساڑھے چار ماشہ چاندی کی انگوٹھی پہننا ۔ (٧) خوشبو لگانا۔ (٨) فجرکی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا۔ (٩) نبی کریم اکی بارگاہ میں بصد خلوص درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا (١٠) عید گاہ میں جلدی جانا (١١) عید گاہ کو پیدل جانا (١٢) واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کرناراستے میں تکبیرتشریق پڑھتے ہوئے جانا (١٣) نمازعید کو جانے سے پہلے چند کھجوریں کھالینا۔ (١٤) تین یا پانچ یا سات یا کم و بیش مگر طاق ہوں کھجوریں نہ ہوں تو کوئی میٹھی چیز کھالے۔ نماز سے پہلے کچھ نہ کھایا تو گنہگار نہ ہوگا مگر عشاء تک نہ کھایا تو گنہگار بھی ہوگا اورعتاب بھی کیا جائے گا۔ (١٥) نماز عید کے بعد معانقہ و مصافحہ کرنا اور رمضان کی کامیابیوں پر مبارکباد اور عید کی مبارکباد دینا۔ (١٦) سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ٣٠٠ مرتبہ پڑھنا بے حد اجر و ثواب کا باعث ہے۔

عید کے دن کا انمول وظیفہ:

حضور اکرم، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : جس نے عید کے دن تین سو بار یہ ورد پڑھا سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہ (اللہ پاک ہے اور اس کی حمد ہے) پھر اس کا ثواب تمام مسلمان مُردوں کو بخش دیا، تو ہر قبر میں ایک ہزارا نوار داخل ہوں گے اور جب یہ آدمی فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں بھی ایک ہزارا نوار داخل کرے گا۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ٦٩٢)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عید:

حضرت ِ جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نمازیں ادا کی ہیں اور ہر دفعہ انہیں اذان اور اقامت کے بغیر ہی ادا کیا ۔ (مسلم شریف )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت شریفہ تھی کہ عید کی نماز ہمیشہ جامع مسجد کے باہر یا کسی اور جگہ کھلے میدان میں پڑھنے کا حکم دیتے، البتہ ایک دفعہ جب بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ہی نماز ادا کرلی۔ (بخاری شریف)

حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید گاہ کیلئے روانہ ہوتے تو راستے میں اور نمازِ عید شروع کرنے سے قبل تک تکبیر پڑھتے رہتے ، اسے بلند آواز سے پڑھتے، اور واپس ہمیشہ دوسرے راستہ سے آتے، لیکن واپسی کے وقت تکبیر نہیں پڑھتے۔ (بخاری شریف، سننِ کبریٰ بیہقی)

رسول اکرم محبوبِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ کو (جب وہ نجران میں تھے ) خط لکھا کہ عید الاضحی کی نماز جلدی پڑھاؤ اور عید الفطر کی دیر سے اور اس کے بعد لوگوں کو وعظ و نصیحت کرو ۔ (مسند امام شافعی)

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی عید:

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے کو عید کے دن دیکھا، اس کی قمیض پرانی تھی، تو رو پڑے۔ اس نے کہا: آپ کیوں روتے ہیں ؟ فرمایا: اے بیٹا ! مجھے خطرہ ہے عید کے دن تیرا دل ٹوٹ جائے گا، جب بچے تمہیں یہ پُرانی قمیض پہنے دیکھیں گے۔ اس نے کہا: دل اس کا ٹوٹتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہ ہو، یا اس نے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو اور مجھے امید ہے کہ آپ کی رضا کے باعث اللہ تعالیٰ مجھے سے راضی ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ روپڑے اور اسے سینہ سے لگالیا اور اس کے لیے دعا کی۔ (مکاشفۃ القلوب ، صفحہ ٦٩٣)

عید کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا آپ اس وقت بھوسی کی روٹی کھارہے تھے ، اس نے عرض کیا کہ آج عید کا دن ہے اور آپ چوکر (بھوسی) کی روٹی کھارہے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا آج عید تو اس کی ہے جس کا روزہ قبول ہو، جس کی محنت مشکور ہو، اور جس کے گناہ بخش دیے گئے ہوں ۔ آج کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے کل بھی ہمارے لئے عید ہوگی اور ہر دن ہمارے لئے عید کا دن ہے جس دن ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کریں ۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٤١١)

اہم نکتہ:

عید کی نماز سے فارغ ہوکر لوگ عید گاہ سے لوٹتے ہیں ، کوئی گھر کو جاتا ہے ، کوئی دکان کو اور کوئی مسجد کو تو اس وقت یہ حالت دیکھ کر مسلمان کو چاہیے کہ اس منظر اور کیفیت کو یاد کرے کہ اس طرح لوگ قیامت میں جزا و سزا دینے والے بادشاہ کے حضور سے جنت اور دوزخ کی طرف لوٹ کر جائیں گے، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْہِ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ (پارہ ٢٥،سورۃ شوریٰ، آیت ٧)
اور تم ڈراؤ اکٹھے ہونے کے دن سے جس میں کچھ شک نہیں ، ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک گروہ دوزخ میں (ترجمہ کنز الایمان ، غنیہ الطالبین صفحہ ٤١٢)


http://www.vectralogix.com/irfan/Des3.jpg
 
اسلامی تہوار مثالی معاشرے کے قیام کی ضمانت

اقوامِ عالم مختلف مواقع پر خوشیوں کے اظہار کیلئے اجتماعی طور پر تہوار مناتی ہیں ، یہ تہوار مذہبی روایات اور قومی جذبات کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ ایک امر مسلّمہ ہے کہ اسلامی تہوار محض تفریحِ طبع کیلئے منعقد نہیں ہوتے بلکہ اسلامی معاشرے کو خوشحالی اور فلاحی بنانے کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ مختلف ادیان و مذاہب کے ماننے والے جتنے تہوار مناتے ہیں اسے ہر طرح کے مادّی سازو سامان سے معمور رکھتے ہیں ۔عیش و عشرت، راگ و موسیقی، نغمہ و سرود، شراب و شباب اور میلوں تماشوں میں محو و مگن ہوتے ہیں ۔ بحمدہ تعالیٰ مسلمانوں کے تمام تہوار ، دینی شعار کی طرح صرف ذاتی خوشی کیلئے نہیں بلکہ اللہ ل کی رضا کیلئے ہوتے ہیں ، ان تہواروں کا انعقاد اللہ ل اور اس کے پیارے محبوب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے احکام پر عمل کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ اسی لیے تہوار کاآغاز ہی اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے اعلان اور اس کے ذکر و اذکار سے ہوتا ہے۔ اسلامی تہوار غم گساری بھی سکھاتا ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے معاشی استحکام کیلئے ایک متمول مسلمان اپنا کردار ادا کرے۔ بین المسلمین مواخات کے رشتے اسلامی تہوار کے ذریعے مضبوط اور مربوط ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے سے معانقہ کرنا ، مصافحہ کرنا ، رمضان کی مبارکباد پیش کرنا ، تراویح و تسبیحات کی قبولیت کی ایک دوسرے کے حق میں دعا کرنا ، ایک دوسرے کے حق میں مغفرت کی دعا کرنا ، تحائف کا تبادلہ کرنا اور طعام کی دعوت دیناوغیرہ، ایک اخلاقی ،مثالی اور فلاحی معاشرے کے قیام کی ضمانت دیتے ہیں ۔یہ معمولات و عادات زندہ مسلمانوں کے درمیان ہی نظر نہیں آتے ہیں بلکہ مسلمانوں کے تہوار اپنے پیش رو مرحومین کو بھی نظر انداز نہیں کرتے ، نماز ِ عید کی ادائیگی کے بعد اور برادرانِ اسلام سے ملاقات کے بعد قبرستان جانا اور مسلمان مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت کرنا ، سنّت ِ متواترہ ہے۔

حضور غوث الثقلین شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں ، ''مسلمان کی عید ، طاعت و بندگی کی علامات کے ظاہر ہونے سے ہے، گناہوں اور خطاؤں سے دوری کی بنیاد پر ہے ، سیأات کے عوض حسنات (نیکیوں ) کے حصول اور درجات کی بلندی کی بشارت ملنے پر ہے ، اللہ تعالیٰ جل شانہ، کی طرف سے خلعتیں ، بخششیں اور کرامتیں حاصل ہونے کے باعث ہے، مسلمان کو نورِ ایمان سے معمور سینہ کی روشنی ، قوتِ یقین اور دوسری نمایاں علامات کے سبب دل میں سکون پیدا ہوتا ہے پھر دل کے اتھاہ سمندر سے علوم و فنون اور حکمتوں کا بیان زبان پر رواں ہوجانے سے عید کی حقیقی مسرتیں حاصل ہوتی ہیں ۔'' (غنیہ الطالبین ، صفحہ ٤١٠ ، ٤١١)

شوال کے چھ روزے:

شوال میں (عید کے دوسرے دن سے ) چھ دن روزے رکھنا بڑا ثواب ہے جس مسلمان نے رمضان المبارک اور ماہِ شوال میں چھ ٦ روزے رکھے تو اس نے گویا سارے سال کے روزے رکھے یعنی پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سے روایت ہے حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہ، سِتًّا مِّنْ شَوَّالِ کَانَ کَصِیَامِ الدَّہْرِ۔ رواہ البخاری و مسلم (مشکوٰۃ صفحہ ١٧٩)
جس آدمی نے رمضان شریف کے روزے رکھے۔ اور پھر ان کے ساتھ چھ روزے شوال کے ملائے تو اس نے گویا تمام عمر روزے رکھے۔

نوٹ:

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ''تمام عمر روزے رکھنے'' کا مطلب یہ ہے کہ رمضان شریف کے علاوہ ہر ماہِ شوال میں چھ ٦ روزے رکھے جائیں تو تمام عمر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔ اگر اس نے صرف ایک ہی سال یہ روزے رکھے تو سال کے روزوں کا ثواب ملے گا۔ پھر یہ روزے اکٹھے رکھے جائیں یا الگ الگ ، ہر طرح جائز ہیں مگر بہتر یہ ہے کہ ان کو متفرق طور پر رکھا جائے۔ یہی حنفی مذہب ہے۔ (فضائل الایام والشہور صفحہ ٤٤٧بحوالہ لمعات حاشیہ مشکوۃ صفحہ ١٧٩)

شوال میں ایامِ بیض کے روزے

علاوہ ازیں ماہِ شوال میں متذکرہ چھ ٦ روزوں کے علاوہ ١٣، ١٤، ١٥ چاند کی تاریخوں (ایامِ بیض) میں اسی طرح روزے رکھے جاسکتے ہیں جیسا کہ دیگر مہینوں میں انہی ایام میں رکھتے ہیں ۔اس حوالے سے صحاح ستّہ (بخاری ، مسلم ، ابو داؤد، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ شریف ) میں کئی روایات ملتی ہیں ۔


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc4/58775_429466285333_672380333_5641484_3712972_n.jpg
 
ماہِ شوال میں وقوع پذیر ہونے والے اہم واقعات

٭ پہلی نماز عید ۔۔۔۔۔۔٢ہجری ٭ غزوہ بنی قینقاع۔۔۔۔۔۔٢ہجری ٭ غزوہ احد۔۔۔۔۔۔، ٣ہجری ٭ شہادت حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٣ ہجری٭ غزوہ خندق (الاحزاب) ۔۔۔۔۔۔٥ہجری ٭ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے "طائف" کا محاصرہ فرمایا۔۔۔۔۔۔٨ھ٭ وفات حضرت ابو قحافہص (والد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ) ۔۔۔۔۔۔١٤ ہجری ٭ جنگ قادسیہ۔۔۔۔۔۔١٥ہجری ٭ فتح بیت المقدس شریف۔۔۔۔۔۔١٦ ہجری ٭ امّ کلثوم بنت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نکاح حضرت ِ عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے۔۔۔۔۔۔١٧ ہجری٭  وفات ہرقل قیصرروم۔۔۔۔۔۔٢٠ ہجری ٭ وفات ابن کعب۔۔۔۔۔۔٢٢ہجری ٭ تکمیل فتح آذر بائیجان۔۔۔۔۔۔٢٨ہجری ٭ وفات الحکم۔۔۔۔۔۔٣١ہجری ٭ وفات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٣٢ہجری ٭ امارت ابو موسیٰ اشعری بر کوفہ۔۔۔۔۔۔٣٤ہجری ٭ وفات حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٣٦ہجری ٭ وفات صہیب رومی ص۔۔۔۔۔۔ ٣٨ہجری٭ وفات عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٣٤ہجری ٭ ابتداء فتوحات بخارا تاشقند۔۔۔۔۔۔٥٤ہجری ٭ فتح خوارزم۔۔۔۔۔۔٦٢ ہجری ٭ قتل مختار ثقفی۔۔۔۔۔۔٦٧ہجری ٭ وفات ابو واقد اللیشی رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٦٨ہجری ٭ شام میں طاعون کی وبا۔۔۔۔۔۔٧٩ہجری ٭ وفات خلیفہ عبدالملک و خلافت ولید۔۔۔۔۔۔٨٥ہجری ٭ وفات عتبہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٨٧ہجری ٭ حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کی زہر سے شہادت۔۔۔۔۔۔٩٤ہجری/جولائی ٧١٣ء ٭ وفات حجاج بن یوسف ثقفی۔۔۔۔۔۔٩٥ہجری ٭ وفات ابو عثمان النہدی۔۔۔۔۔۔١٠٠ہجری ٭ وفات سکینہ بنت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔۔۔۔۔۔١١٧ہجری ٭ وفات حافظ قتادہ محدث۔۔۔۔۔۔١١٨ہجری ٭ وفات معاویہ بن ہشام ۔۔۔۔۔۔١١٩ہجری ٭ وفات امیر مدینہ ابو بکر الانصاری ۔۔۔۔۔۔١٢٠ہجری ٭ وفات یحییٰ النحوی۔۔۔۔۔۔١٢٨ہجری ٭ وفات قاضی دمشق یزید بن عبداللہ بن عبدالملک۔۔۔۔۔۔١٣٠ہجری ٭ وفاتِ فضیلۃ الشیخ حضرت ایوب السختیانی تابعی علیہ الرحمۃ۔۔۔۔۔۔١٣١ہجری ٭ اندلس میں اموی حکومت ۔۔۔۔۔۔١٣٨ہجری/مارچ ٧٥٦ء ٭ وفات حجاج بن ارطاط۔۔۔۔۔۔١٤٩ہجری ٭ قتل عبداللہ الاشتر۔۔۔۔۔۔١٥١ہجری ٭ بغداد میں قصر الخلد کی تعمیر۔۔۔۔۔۔ ١٥٧ہجری ٭ وفات ابو الحرث الفقیہہ۔۔۔۔۔۔١٥٩ہجری ٭ وفات قاضی ابو بکر بن ابی سیرہ ۔۔۔۔۔۔١٦٢ہجری ٭ وفات خالد برمکی۔۔۔۔۔۔١٦٥ہجری ٭ وفات سلیمان بن بلا ل علیہ الرحمۃ۔۔۔۔۔۔١٧٢ہجری ٭ وفات فضل بن یحییٰ برمکی۔۔۔۔۔۔١٩٢ہجری ٭ وفات فقیہہ اندلس زیاد۔۔۔۔۔۔١٩٣ہجری ٭ وفات عبدالرحمن المحاربی۔۔۔۔۔۔١٩٥ہجری ٭ حضرت علامہ معن بن عیسیٰ (ابو یحییٰ) تلمیذ امام مالک ۔۔۔۔۔۔١٩٨ھ ٭ وفات یونس بن بکیر۔۔۔۔۔۔١٩٩ہجری ٭ اعلان ولی عہدی امام علی رضا ابن امام موسی کاظم علیہ الرحمۃ۔۔۔۔۔۔٢٠١ہجری ٭ وفات حافظ ابو داؤد طیالسی۔۔۔۔۔۔٢٠٤ہجری ٭ بنیادِ دولتِ طاہریہ۔۔۔۔۔۔٢٠٥ہجری ٭ وفات امام فراء نحوی۔۔۔۔۔۔٢٠٧ہجری ٭ وفات عبدالرزاق بن الہمام صنعانی۔۔۔۔۔۔٢١١ہجری ٭ مازیار کی بغاوت۔۔۔۔۔۔٢٢٤ہجری ٭ وفات الحافظ ابو الولید الطیالسی۔۔۔۔۔۔٢٢٧ہجری ٭ وفات لقیم بن حماد۔۔۔۔۔۔٢٢٨ہجری ٭ وفات الحکم القنطری۔۔۔۔۔۔٢٣٢ہجری ٭ وفات حاتم الاصم الزاہد۔۔۔۔۔۔٢٣٧ہجری ٭ مروہ میں وبائی زکام ۔۔۔۔۔۔ ٢٤٠ہجری ٭ قتل متوکل ، خلافتِ المنتصر۔۔۔۔۔۔٢٤٧ہجری ٭ وفات امام بخاری علیہ الرحمۃ۔۔۔۔۔۔٢٥٦ ہجری٭ رومیوں کا ملطیہ پر حملہ۔۔۔۔۔۔٢٥٩ہجری ٭ وفات شیخ الاطباء حسین الشعرانی۔۔۔۔۔۔٢٦٠ہجری ٭ وفات بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ۔۔۔۔۔۔٢٦١ہجری ٭ وفات یعقوب صفار بانی حکومت صفاریہ ۔۔۔۔۔۔٢٦٦ہجری ٭ وفات امام حضرت ابو داؤد (صاحبِ سنن) ١٦شوال ،٢٧٥ہجری ٭ وفات حضرت شیخ ابو سعید الخراز ۔۔۔۔۔۔٢٨٦ہجری ٭ وفات فقیہہ عثمان الانماطی۔۔۔۔۔۔٢٨٨ہجری ٭ وفات ابو العباس الہروی۔۔۔۔۔۔٢٩٢ہجری ٭ وفات قاضی یوسف الازدی۔۔۔۔۔۔٢٩٧ہجری ٭ وفات حضرت جنید بغدادی ۔۔۔۔۔۔ ٢٩٨ ہجری ٭ وفات فقیہہ مغرب ابو عثمان الحداد۔۔۔۔۔۔٣٠٢ہجری ٭ وفات ابراہیم الانماطی المفسر ۔۔۔۔۔۔ ٣٠٣ ہجری ٭ وفات امام ابن جریر طبری مؤرخ و مفسر۔۔۔۔۔۔٣١٠ہجری ٭ دریائے دجلہ منجمد ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ ٣١٤ ہجری ٭ قتل عباسی خلیفہ المقتدر بااللہ و خلافت القاہر البغدادی۔۔۔۔۔۔٢٧شوال،٣٢٠ہجری ٭ بغداد میں شدید بادوباراں ۔۔۔۔۔۔٣٢٧ہجری ٭ وفات ابو بکر ابن الانباری۔۔۔۔۔۔٣٢٨ہجری ٭ وفات اسحق البحرجانی ۔۔۔۔۔۔ ٣٣٧ہجری ٭ خلافت ِ مطیع اللہ میں حجرِ اسود کو ٢٠ سال بعد کعبہ میں واپس لایا گیا۔۔۔۔۔۔ ٣٣٩ہجری٭ وفات المنصور العبیدی۔۔۔۔۔۔٣٤١ہجری ٭ وصال علامہ ابو الحسین عبد الباقی بن قانع ۔۔۔۔۔۔٣٥١ ہجری ٭ وفات حافظ عبدالباقی بن مزروقی ۔۔۔۔۔۔٣٥١ہجری ٭ وفات ابن حبان مشہور محدث۔۔۔۔۔۔٣٥٤ہجری ٭ وفات کافور الا خشیدی (حبشی غلام ، متنبی کا ہمعصر اور مصرو شام کا والی و حاکم) ۔۔۔۔۔۔٣٥٦ہجری ٭ رومیوں کا حمص پر حملہ ۔۔۔۔۔۔٣٥٨ہجری ٭ وفات ابو بکر عبد العزیز الحنبلی ۔۔۔۔۔۔٣٦٣ہجری ٭ قتل عزالدولہ بن معز الدولہ۔۔۔۔۔۔٣٦٧ہجری ٭ وفات عضد الدولہ ابن بویہ ۔۔۔۔۔۔٣٧٢ہجری ٭ ملتان پر جلم بن شیبان قرامطی اسماعیلی کا قبضہ۔۔۔۔۔۔٣٧٣ہجری ٭ وفات ابو احمد العسکری۔۔۔۔۔۔٣٨٢ہجری ٭ وفات الولید الغمری الاندلسی۔۔۔۔۔۔٣٩٢ہجری ٭ وفات (ماہر فلکیات ، ہیت دان ) ابن یونس الصدفی مؤجدِ لوگارتھم۔۔۔۔۔۔٣٩٩ھ ٭ بحالیِ خلافت محمد المہدی ۔۔۔۔۔۔٤٠٠ ہجری ٭ محمود غزنوی کا ملتان پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٤٠١ہجری ٭ بحالی سلیمان الاموی الاندلسی ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٣ہجری ٭ وفات ابو محمد بن الاکفانی۔۔۔۔۔۔٤٠٥ہجری ٭ وفات امام ابو حامد الاسفراینی (چوتھی صدی کے مجدد) ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٦ ہجری ٭ وفات المالینی ۔۔۔۔۔۔٤١٢ہجری ٭ وفات سلطان شرف الدولہ ۔۔۔۔۔۔ ٤١٦ ہجری ٭ وفات محمود غزنوی و تخت نشینی مسعود غزنوی۔۔۔۔۔۔٤٢١ہجری ٭ سلجوقیوں کی حکومت کا آغاز۔۔۔۔۔۔٤٢٩ہجری ٭ وفات ابولحسن مکی صاحبِ اعراب القرآن۔۔۔۔۔۔٤٣٠ہجری ٭ وفات ابو طاہر الغباری ۔۔۔۔۔۔٤٣٢ہجری ٭ وفات حافظ ابو ذر الفقیہہ المالکی ۔۔۔۔۔۔٤٣٤ہجری ٭ وفات سلطان جلال الدولہ ویلمی۔۔۔۔۔۔٤٣٥ہجری ٭ وفات ابو طالب البزاز۔۔۔۔۔۔٤٤٠ ہجری ٭ وفات ابو عمر والدانی۔۔۔۔۔۔٤٤٤ہجری ٭ وفات تاج الائمہ ابو العباس المصری۔۔۔۔۔۔٤٤٥ہجری ٭ وفات ابو عبداللہ بن ماکولا۔۔۔۔۔۔٤٤٧ہجری ٭ وفات ملک شاہ سلجوقی۔۔۔۔۔۔٤٨٥ہجری ٭ وفات المعتمد علی اللہ الاندلسی۔۔۔۔۔۔٤٨٨ہجری ٭ وفات ابو الفوارس الہاشمی۔۔۔۔۔۔٤٩١ہجری ٭ فیروز کوہ میں غوریوں کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔٤٩٣ ہجری ٭ مودود والی اندلس کو ایک باطنی نے عید کی نماز میں قتل کردیا۔۔۔۔۔۔٥٠٧ہجری ٭ حکومتِ ارسلان شاہ غزنوی۔۔۔۔۔۔٥٠٨ہجری ٭ وفات علی بن بنہان الکاتب۔۔۔۔۔۔٥١١ہجری ٭ وفات ابو علی بن المہدی۔۔۔۔۔۔٥١٥ ہجری ٭ وفات حسین فراء البغوی (مفسر) ۔۔۔۔۔۔٥١٦ہجری ٭ وفات ابن الفاعوس۔۔۔۔۔۔٥٢١ہجری ٭ الآمر خلیفہ فاطمی ۔۔۔۔۔۔٥٢٤ہجری ٭ وفات سلطان محمود سلجوقی۔۔۔۔۔۔٥٢٥ہجری ٭ وفات ابو بکر بن التبان الواسطی۔۔۔۔۔۔٥٤٤ہجری ٭ وفات ابو الفتوح الطائی۔۔۔۔۔۔٥٥٥ہجری ٭ نور الدین نے فرنگیوں کو قلعات سے نکال دیا۔۔۔۔۔۔٥٦١ہجری ٭ وفات قطب الدین مسعود والی موصل۔۔۔۔۔۔ ٥٦٥ ہجری ٭ وفات علامہ ابو محمد بن الخشاب ۔۔۔۔۔۔٥٦٧ہجری ٭ وفات ابو نزار الحسن النحوی۔۔۔۔۔۔٥٦٨ہجری ٭ وفات نور الدین محمود زنگی ۔۔۔۔۔۔٥٦٩ہجری ٭ وفات حامد ابن ابی الحجر۔۔۔۔۔۔٥٧٠ھ ٭ وفات عمر اُنز حاکم سندھ۔۔۔۔۔۔ ٥٧٣ ہجری ٭ شہاب غوری کا لاہور پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٥٨٢ہجری ٭ وفات ابو طاہر التمیمی۔۔۔۔۔۔ ٥٨٧ہجری ٭ وفات شیخ عبدالوہاب جیلانی ۔۔۔۔۔۔٥٩٣ہجری ٭ وفات ابو علی الفارسی ۔۔۔۔۔۔٥٩٤ ہجری ٭ وفات امام فخرالدین رازی ۔۔۔۔۔۔٦٠٦ ہجری ٭ ولادت مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری ۔۔۔۔۔۔٦٦١ ہجری ٭ قتل کافور ملک۔۔۔۔۔۔٧١٦ہجری ٭ وفات برہان الرشیدی ۔۔۔۔۔۔٧٤٩ ہجری ٭ وفات مخدوم شرف الدین یحییٰ منیری ۔۔۔۔۔۔٧٨٢ہجری ٭ خلافت المعتصم دوبارہ ۔۔۔۔۔۔٧٨٧ ہجری ٭ وفات حضرت خواجہ صوفی کمال خجندی تبریزی۔۔۔۔۔۔٧٩٢ ہجری ٭ وفات الظاہر برقوق ۔۔۔۔۔۔٨٠١ہجری٭ حرم کعبہ میں آگ لگی ۔۔۔۔۔۔٨٠٢ ہجری ٭ وفات قاضی القضاۃ صدر الدین المناوی ۔۔۔۔۔۔٨٠٣ہجری ٭ وفات جمال الدین یوسف الحمودی۔۔۔۔۔۔٨٠٩ہجری ٭ وفات صاحب قاموس مجد الدین الفیروز آبادی ۔۔۔۔۔۔ ٨١٧ ہجری ٭ وفات بدرالدین بن قاضی غازی اسرائیل (معروف صوفی) ۔۔۔۔۔۔ ٨١٩ ہجری ٭ وفات نور الدین بن سلامہ۔۔۔۔۔۔٨٢٨ہجری ٭ وفات ابو بکر محمد بن محمد عاصم مالکی نحوی ۔۔۔۔۔۔١١شوال، ٨٢٩ہجری ٭ وفات تاج الدین محدث بعلبکی۔۔۔۔۔۔٨٣٠ہجری ٭ وفات ابن الرسام الحلبی۔۔۔۔۔۔٨٤٤ہجری ٭ حکومت علاؤالدین عالم شاہ ۔۔۔۔۔۔٨٤٩ہجری ٭ خلافت سلیمان قانونی ۔۔۔۔۔۔٩٢٦ہجری ٭ وفات شیخ زادہ الحنفی ۔۔۔۔۔۔٩٧١ہجری ٭ وفات امام عبدالوہاب الشعرانی۔۔۔۔۔۔٩٧٣ہجری٭  برہان الملک اول نواب اودھ کا والی ہوا ۔۔۔۔۔۔١١٣٣ ہجری ٭ وفات سردار دوست محمد خان بانی ریاست بھوپال۔۔۔۔۔۔١١٣٩ہجری ٭ وفات ارادت خان واضح ۔۔۔۔۔۔١١٥٧ہجری ٭ جنگ پلاسی۔۔۔۔۔۔١١٧٠ہجری ٭ خلافت عبدالحمید اول سلطنتِ عثمانیہ ۔۔۔۔۔۔١١٨٧ہجری ٭ ایران پر قاچاری حکومت کی ابتدا۔۔۔۔۔۔١٢١٠ہجری ٭ طائف پر وہابیوں کا قبضہ ۔۔۔۔۔۔٢٥شوال ، ١٢١٧ہجری/١٨فروری ١٢٠٢ء ٭ وفات عبدالعزیز محدث دہلوی ۔۔۔۔۔۔١٢٣٩ ہجری (مجدد قرن سیز دہم) ٭ ولادت ِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ۔۔۔۔۔۔١١شوال ١٢٧٢ہجری٭ وفات میر انیس (مرثیہ گو شیعہ شاعر) ۔۔۔۔۔۔١٢٩١ہجری ٭ وفات سید جمال الدین افغانی ۔۔۔۔۔۔١٣١٤ہجری ٭ زارِ روس ختم کمیونسٹ حکومت کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔١٣٣٥ہجری/جولائی ١٩١٦ء ٭ وفات مولانا شوکت علی ۔۔۔۔۔۔١٣٥٧ہجری /١٩٣٨ء ٭ وفات ابو المحاسن سجاد (بہار) ۔۔۔۔۔۔١٣٥٩ہجری/١٩٤٠ء ٭ وفات خوشی محمد ناظر۔۔۔۔۔۔ ١٣٦٣ ہجری/١٩٤٠ء ٭ وفات حبیب الرحمن خاں شیروانی ۔۔۔۔۔۔ ١٣٦٩ ہجری ٭ وفات مولانا شاہ احمد نورانی ۔۔۔۔۔۔١٦شوال ١٤٢٤ہجری/١١دسمبر ٢٠٠٣ء ٭ عراقی صدر صدام حسین کی تکریت سے گرفتاری ۔۔۔۔۔۔بروز ہفتہ، ١٨شوال، ١٤٢٤ہجری /١٣دسمبر٢٠٠٣ء


https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/297779_10150273872495334_672380333_8343743_1216254_n.jpg
 
شوال المکرم میں وفات پانے والے مشہور اولیاء و بزرگانِ دین رحمہم اللّٰہ

یکم شوال المکرم

٭ حضرت ابو خذافہ احمد بن اسمعیل سہمے ۔۔۔۔۔۔٢٥٠ھ ٭ حضرت سیدی ابو عبداللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری (صاحبِ صحیح) ۔۔۔۔۔۔٢٥٦ھ ٭ حضرت شیخ عبداللہ محمد طاقی ۔۔۔۔۔۔ ٤١٦ھ ٭ حضرت خواجہ عارف ریوگری ۔۔۔۔۔۔ ٦١٦ھ/٧١٥ھ ٭ حضرت علاؤالدین صابری ثانی عرف موج دریا ۔۔۔۔۔۔٧٢٣ھ ٭ حضرت ظہور حاجی ظہور۔۔۔۔۔۔٧٩٩ھ ٭ حضرت خواجہ میر حمزہ بن امیر کلاں ۔۔۔۔۔۔٨٠٨ھ ٭ حضرت سید سرور دین حضوری ۔۔۔۔۔۔ ١١٠٠ھ ٭ حضرت ابو سعید نقشبندی ۔۔۔۔۔۔ ١٢٥٠ھ ٭  علامہ ماجد علی حنفی جونپوری ۔۔۔۔۔۔١٣٥٢ھ

٢ شوال المکرم

٭ حضرت ابوعلی رودباری ۔۔۔۔۔۔٣٢٢ھ ٭ حضرت ابو بکر زین الدین خوانی۔۔۔۔۔۔٨٣٨ھ ٭ مخدوم سید علاؤالدین سنڈیلہ

٣ شوال المکرم

٭ حضرت سیدی انوار الحسین عبدالباقی بن قانع۔۔۔۔۔۔٣٥١ھ ٭ حضرت ابوالمجد مجدود بن آدم معروف بحکیم سنائی ۔۔۔۔۔۔٥٢٥ھ ٭ حضرت ابو صالح صفات نوری احمر قانی ۔۔۔۔۔۔ ٩٩٩ھ ٭ حضرت شیخ حسوتیلی ۔۔۔۔۔۔١٠١٢ھ ٭ حضرت خواجہ محمد صدیق کشمی ۔۔۔۔۔۔١٠٥١ھ ٭ حضرت خواجہ محمد نقشبندی سیف زمان ۔۔۔۔۔۔ ١١٥٣ھ ٭ حضرت مولوی محمد حسین ۔۔۔۔۔۔١٣٤٥ھ ٭ حضرت مخدوم سید شوکت حسین گیلانی (اولاد حضرت موسیٰ پاک شہید، رہنما تحریک پاکستان) ۔۔۔۔۔۔١٤٠٢ھ

٤ شوال المکرم

٭ حضرت سید شاہ جلال راضی بخاری گلسرخ۔۔۔۔۔۔٦٥٨ھ٭ حضرت دیوان محمد شہاب الدین ۔۔۔۔۔۔٩١٧ھ ٭ حضرت شیخ رکن الدین صابری گنگوہی۔۔۔۔۔۔٩٨٣ھ ٭ حضرت میاں جیو نور محمد صابری جہنجہانوی ۔۔۔۔۔۔١٢٥٩ھ ٭ حضرت مولوی کریم اللہ دہلوی۔۔۔۔۔۔١٢٩٠ھ ٭ مولوی سائیں غلام محمد قادری المعروف پیر جلو آنوی۔۔۔۔۔۔١٣٧٥ھ ٭ حضرت شاہ کاظم علی ٭ سید بدرالدین رفاعی

٥ شوال المکرم

٭ حضرت سیف الدین عبدالوہاب بن غوث الاعظم۔۔۔۔۔۔٦٠٣ھ ٭ حضرت شیخ شرف الدین المعروف بہ مصلح الدین محمد سعدی۔۔۔۔۔۔٦٩١ھ ٭ حضرت سراج الدین عثمان اخی چراغ غنی الارواح۔۔۔۔۔۔٧٩٧ھ ٭ حضرت سید محمد غوث بالا پیر۔۔۔۔۔۔٩٥٩ھ ٭ حضرت شیخ باقی اکبر آبادی۔۔۔۔۔۔ ١٠٦٥ھ ٭ حضرت شیخ محمد اسمٰعیل مدرس عرف میاں وڈا سہروردی ۔۔۔۔۔۔١٠٨٥ھ ٭ حضرت شاہ کریم عطا چشتی نظامی ۔۔۔۔۔۔١٢٤٨ھ ٭ حضرت خواجہ محمد اکبر علی۔۔۔۔۔۔١٣٩١ھ

٦ شوال المکرم

٭ حضرت شیخ عبدالرزاق بن غوث اعظم۔۔۔۔۔۔٦٢٣ھ٭  حضرت ابو اسحق ابراہیم بن غوث الاعظم ۔۔۔۔۔۔٦٢٣ھ ٭ حضرت شاہ شرف الدین احمد یحییٰ منیری۔۔۔۔۔۔٧٨٢ھ ٭ حضرت شیخ امین الدین ٭ حضرت شاہ عبدالرزاق بانسوی ۔۔۔۔۔۔ ١١٣٦ھ ٭ حضرت مولوی سخاوت علی جونپوری ۔۔۔۔۔۔ ١٢٧٤ھ٭ حضرت خواجہ عثمان ہاروَنی

٧ شوال المکرم

٭ حضرت اویس قرنی ص۔۔۔۔۔۔٣٩ھ٭ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ۔۔۔۔۔۔١٢٣٩ھ ٭ عرس آسی غازی پوری

٨ شوال المکرم

٭ حضرت سوید بن سعید ہروی۔۔۔۔۔۔٢٤٠ھ

٩ شوال المکرم

٭ حضرت شیخ ابو العباس بغدادی۔۔۔۔۔۔٣٥٧ھ ٭ حضرت شیخ معمر چشتی ۔۔۔۔۔۔ ٤٢٥ھ ٭ حضرت خواجہ خانون انکوری ۔۔۔۔۔۔ ١٠٩٨ھ ٭ حضرت شیخ محمد سلطان مرگ نینی۔۔۔۔۔۔١١٥٨ھ ٭ عزیز اللہ مشاہدی بنگلہ دیشی

١٠ شوال المکرم

٭ حضرت خواجہ احمد کھتو دہلوی۔۔۔۔۔۔٨٥٩ھ ٭ مولانا احسان علی بہاری٭ استاذ العلماء یادگار اسلاف حضرت مفتی محمد عبد اللہ نعیمی شہید (بانی دارالعلوم مجددیہ نعیمیہ) ۔۔۔۔۔۔١٤٠٢ھ

١١ شوال المکرم

٭ حضرت شیخ زبیر بن واحد۔۔۔۔۔۔١١٣ھ٭ حضرت ابو سعید احمد مالینی ۔۔۔۔۔۔٤١٢ھ ٭ حضرت خواجہ بہاؤالدین۔۔۔۔۔۔٦٢٨ھ٭ حضرت سیدشرف الدین۔۔۔۔۔۔٧٩٢ھ ٭ حضرت شیخ عبدالصمد گنگوہی۔۔۔۔۔۔٩٨٩ھ ٭ حضرت شاہ عبدالرحمن چشتی۔۔۔۔۔۔١٠٤٠ھ ٭ حضرت شاہ جبار احمد سہیل تستری ۔۔۔۔۔۔ ١٠٩١ ھ ٭ حضرت شاہ شرف الدین کشمیری۔۔۔۔۔۔١١٣٥ھ ٭ حضرت شیخ خواجہ سعد الدین مجددی۔۔۔۔۔۔١١٥٢ھ ٭ مغل حکمران اورنگزیب عالمگیرمجدد بارہویں صدی ہجری ٭  شیخ عظیم الدین بڑودہ

١٢ شوال المکرم

٭ حضرت ابو القاسم قرشی۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭ حضرت ابو نصر محمد ہرولی۔۔۔۔۔۔٥٠٠ھ ٭ حضرت قطب الدین سید کبیر۔۔۔۔۔۔٦١٩ھ ٭ حضرت شاہ عبدالرحمن مرعشی۔۔۔۔۔۔٧١٥ھ ٭ حضرت مخدوم اخی جمشید راجگیری ۔۔۔۔۔۔ ٨٠١ھ ٭ حضرت شاہ عبدالقدوس قلندر عرف شاہ قدن۔۔۔۔۔۔١٠٥٢ھ

١٣ شوال المکرم

٭ حضرت سید علی فیض آبادی۔۔۔۔۔۔٨٩٨ھ ٭ حضرت شاہ بڈھن چشتی ۔۔۔۔۔۔ ٨٩٩ ٭ حضرت سید آدم بنوری۔۔۔۔۔۔١٠٥٣ھ ٭ حضرت سید امام علی شاہ ۔۔۔۔۔۔١٢٨٢ھ ٭ علامہ محمد فاروق چریاکوٹی ۔۔۔۔۔۔١٣٢٧ھ٭ خواجہ غلام سدید الدین تونسوی (رہنما تحریک پاکستان) ۔۔۔۔۔۔١٣٧٩ھ

١٤ شوال المکرم

٭ سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۔۔۔۔۔۔٨ھ٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ۔۔۔۔۔۔٦٨ھ ٭ حضرت بابو عبدالرحمن مدنی ۔۔۔۔۔۔ ١٠٥ھ ٭ حضرت عقبۃ الغلام بغدادی ۔۔۔۔۔۔١٦٧ھ٭ حضرت محمد صبیح ابن سماک۔۔۔۔۔۔١٨٣ھ ٭ حضرت خواجہ ابو ہزیل بصمدی۔۔۔۔۔۔٢٣١ھ ٭ حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مرعشی رکن الکعبہ۔۔۔۔۔۔٢٥٤ھ ٭ حضرت ابو یحییٰ زکریا نیشاپوری ۔۔۔۔۔۔٢٩٤ھ ٭  حضرت ابو اسحق ابو القاسم حکیم سمرقندی۔۔۔۔۔۔٣٤٢ھ ٭ حضرت شیخ جعفر بن الیاس ۔۔۔۔۔۔ ٣٤٧ھ٭ حضرت ابو الحسن صوفی۔۔۔۔۔۔٣٥٠ھ ٭ حضرت شیخ موفق الدین مقدسی۔۔۔۔۔۔٦٢٠ھ ٭ حضرت شیخ شہاب الدین بغدادی۔۔۔۔۔۔٦٩١ھ ٭ حضرت ابو الفتح سمنانی ۔۔۔۔۔۔ ٧١٧ھ ٭ حضرت عیسیٰ والحق پنڈوی۔۔۔۔۔۔٨٤٦ھ٭ حضرت سید راجو قتال ۔۔۔۔۔۔ ٨٦٥ھ ٭ حضرت شاد ابراہیم بھکری۔۔۔۔۔۔٨٧١ھ ٭ حضرت سید محمد عبید مدنی۔۔۔۔۔۔٨٩٣ھ ٭  حضرت حافظ سلطان اوبہے ۔۔۔۔۔۔٨٩٨ھ ٭ حضرت شیخ جیون حیرت مقام۔۔۔۔۔۔٩٢٧ھ ٭ حضرت شیخ مبارک خیر محمد چشتی۔۔۔۔۔۔٩٨٣ھ ٭ حضرت شیخ رضا سرہندی۔۔۔۔۔۔٩٩٩ھ ٭ حضرت سید ابو تراب عرف شاہ گدا حسینی۔۔۔۔۔۔١٠٧١ ھ ٭ حضرت شیخ مانون شاہ۔۔۔۔۔۔١٠٩٩ھ ٭ حضرت حافظ نیاز اللہ ۔۔۔۔۔۔١٢٦٩ھ ٭ حضرت فتح دین قادری۔۔۔۔۔۔١٣٥٦ھ ٭ حضرت سید عظیم الدین بابا

١٥ شوال المکرم

٭  حضرت سیدالشہدا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلبص (عمِ نبی کریم ا) ۔۔۔۔۔۔٣ھ ٭ حضرت سیدی عبدالرزاق (صاحب مصنف) ۔۔۔۔۔۔٢١١ھ ٭ حضرت خواجہ یحییٰ بن عمار شیبانی ہراتی۔۔۔۔۔۔٤٠٢ھ ٭ حضرت ابو اسحق ابراہیم مغربی۔۔۔۔۔۔٤٠٩ھ ٭ حضرت شیخ الاسلام ابو نصر احمد جام زندہ فیل۔۔۔۔۔۔٥٣٦ھ ٭ حضرت شیخ ماجد کُردی۔۔۔۔۔۔٥٦١ھ ٭ حضرت شیخ جلال تبریزی۔۔۔۔۔۔٦٤٢ھ ٭ حضرت شیخ محمد غیاث نور بخش۔۔۔۔۔۔٨٩٨ھ ٭ حضرت شیخ عثمان معنی صفات۔۔۔۔۔۔١٠٨٥ھ ٭ حضرت قاضی دولت شاہ چشتی یسوی بخاری۔۔۔۔۔۔١١٢٦ھ ٭ حضرت اخوند عبداللہ کشمیری ۔۔۔۔۔۔١١٧١ھ ٭ حضرت مقیم السنہ ملا عبداللہ یسوی ٹویگری٭ حضرت علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی

١٦ شوال المکرم

٭ حضرت سیدی ابو داؤد سلیمان سجستان (صاحب سنن) ۔۔۔۔۔۔٢٧٥ھ ٭ حضرت ابو محمد ابراہیم بن احمد صوفی۔۔۔۔۔۔٣٤١ھ ٭ حضرت محمد امان عرف محمد مانکیل۔۔۔۔۔۔٣٨٩ھ ٭ حضرت شیخ ابو الحسن طرابلسی۔۔۔۔۔۔٤٠٠ھ ٭ حضرت خواجہ علیم الدین بن خواجہ احمد دیسوی ۔۔۔۔۔۔ ٥٨٩ھ٭ حضرت خواجہ عثمان ہاروتی تکبیر الخلاصی۔۔۔۔۔۔٦٠٣ھ ٭ حضرت ابوالغیث جمیل یمنی ۔۔۔۔۔۔٦٥١ھ ٭ حضرت شیخ ابو الحیات نجم الدین۔۔۔۔۔۔٦٧١ھ ٭ حضرت شاہ نجم الدین احمد کبیر فردوسی۔۔۔۔۔۔٦٨١ھ ٭ حضرت سید بہاؤالدین ۔۔۔۔۔۔ ٩١٢ھ ٭ حضرت مخدوم شیخ سارنگ چشتی ۔۔۔۔۔۔٩٤٧ھ ٭ حضرت اخون سالاک ۔۔۔۔۔۔ ١٠٢٧ ھ ٭ حضرت عروۃ الوثقی سرہندی ۔۔۔۔۔۔١١٢٠ھ ٭ حضرت محمد چشتی آستائی۔۔۔۔۔۔١١٢٦ھ ٭ حضرت شاہ مصطفی مقیدالطف۔۔۔۔۔۔١١٦٤ھ ٭ حضرت مولوی محمد عظیم۔۔۔۔۔۔١١٩٧ھ ٭ حضرت شیخ محمد صادق عاشق الواحدیت۔۔۔۔۔۔١٢٠٠ھ

١٧ شوال المکرم

٭ حضرت سیدی ابو یحییٰ معنبن عیسٰی (جامع موطا امام مالک) ۔۔۔۔۔۔١٩٨ھ٭ حضرت امیرحسینی حسن بن سید عالم۔۔۔۔۔۔٧١٨ھ ٭ حضرت ابو الحسن یمین الدین امیرخسرو دہلوی ۔۔۔۔۔۔ ٧٢٥ھ ٭ حضرت شاہ عبدالعزیز بن اسحق۔۔۔۔۔۔٨٣٥ھ ٭ حضرت سید قطب علوی بخاری ٭ علامہ محمود حسن حنفی افغانی نجیب آبادی ۔۔۔۔۔۔١٣٦٣ھ

١٨ شوال المکرم

٭ حضرت خواجہ امین الدین ہبیرہ بصری سپرد ملائک۔۔۔۔۔۔٢٨٢ھ ٭ حضرت بہاؤالدین بہاول شیر قلندر۔۔۔۔۔۔٩٧٣ھ٭ حضرت سید عبدالفتاح دہلوی ٭ حضرت خواجہ عبدالسلام کشمیری۔۔۔۔۔۔١١٧١ھ ٭ حضرت مولوی غلام مصطفی نو شاہی۔۔۔۔۔۔١٣٨٤ھ ٭ شیخ الحدیث و التفسیر علامہ عبد القدیر حسرت حیدرآبادی (مفسر قرآن)

١٩ شوال المکرم

٭ حضرت ہلال ابدال مکی ۔۔۔۔۔۔١٤٧ھ ٭ حضرت شیخ محمد حلوی بن عبدالصمد ۔۔۔۔۔۔ ٧٧٩ھ ٭ حضرت مخدوم شیخ صفی اللہ ۔۔۔۔۔۔ ٨١٨ ھ ٭ حضرت شیخ محمد بغدادی۔۔۔۔۔۔٨٨٢ھ ٭ حضرت شاہ سعید اللہ لکھنوی ۔۔۔۔۔۔ ١٢٩٩ھ ٭ حضرت ہرے بھرے شاہ دہلوی٭ شیخ الدلائل علامہ عبد الحق الہ آبادی مہاجر مکی ۔۔۔۔۔۔١٣٣٣ھ٭ پیر حاجی شاہ سید عبد القادر جیلانی (خلیفہ نقیب الاشراف) ۔۔۔۔۔۔١٣٦٣ھ

٢٠ شوال المکرم

٭ حضرت سید برہان الدین گجراتی ٭ حضرت شاہ حیدر قلندر۔۔۔۔۔۔١٢٨٤ ٭ علامہ سید علی نعمت پھلواری جعفری ۔۔۔۔۔۔١٣٣١ھ ٭ حضرت ابو البرکات سید احمد قادری۔۔۔۔۔۔١٣٩٨ھ

٢١ شوال المکرم

٭ حضرت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام٭ حضرت شیخ عبدالوہاب۔۔۔۔۔۔٦٩٩ھ ٭ حضرت شیخ ابو احمد۔۔۔۔۔۔٧٠٣ھ ٭ حضرت خواجہ احمد عارف صابری بطن الولایت۔۔۔۔۔۔ ٨٥٩ھ٭ حضرت شاہ فتح اللہ رزاق العبود۔۔۔۔۔۔٨٩٧ھ ٭ حضرت سید ضیاء الدین روشن آفتاب ۔۔۔۔۔۔٩٩٨ھ ٭ حضرت خواجہ عبداللہ شاہ۔۔۔۔۔۔١٠٢٥ھ٭ حضرت سرور دین قادری لاہوری ۔۔۔۔۔۔١١٠٠ھ ٭ حضرت سید عبدالوہاب حضوری ۔۔۔۔۔۔١١٣١ھ ٭ حضرت شاہ محمد صالح

٢٢ شوال المکرم

٭ حضرت سیدی ابو حاتم محمد المعروف ابن حبان ۔۔۔۔۔۔٣٥٤٭ حضرت شیخ احمد بن مبارک خادم غوث الاعظم۔۔۔۔۔۔٥٠٧ھ٭ حضرت شیخ شہاب الدین ایہری۔۔۔۔۔۔٧٣٥ھ ٭ حضرت شیخ علی الحسینی۔۔۔۔۔۔٧٥٧ھ٭ حضرت سید محمد ۔۔۔۔۔۔٨٢٧ھ ٭ حضرت شیخ جہانگیر سہروردی ۔۔۔۔۔۔٩١٥ھ ٭ حضرت سید احمد باقی الارواح۔۔۔۔۔۔٩٩٠ھ٭ حضرت پیر محمد اعظم قادری۔۔۔۔۔۔١٣٧٥ھ ٭ حضرت میران سید شاہ نگرامی

٢٣ شوال المکرم

٭ حضرت شیخ فتح السعودی۔۔۔۔۔۔٢٥٧ھ ٭ حضرت میر سید علی بغدادی۔۔۔۔۔۔٧٣٩ھ ٭ حضرت شیخ قطب الدین۔۔۔۔۔۔٨٩٩ھ ٭ حضرت مولانا علاؤالدین اودہی ۔۔۔۔۔۔ ٩٩٨ھ ٭ حضرت شیخ طیب رفیقی۔۔۔۔۔۔١٢٦٦ھ٭ حضرت سیدنا علی قادری ٭ حضرت آدم بنوری٭ علامہ عبد الحق خیر آبادی بن امام فضل حق خیر آبادی ۔۔۔۔۔۔١٣١٨ھ

٢٤ شوال المکرم

٭ حضرت ابو الحسن نوری ہراتی۔۔۔۔۔۔ ٢٩٩ھ ٭ حضرت ابو یعقوب اسحق نہر جوری ۔۔۔۔۔۔٣٣٠ھ٭ حضرت ابو الفضل بن کمتاب۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭ حضرت ابو عبداللہ حمدے ۔۔۔۔۔۔ ٤٦٩ھ ٭ حضرت مولانا عبدالسلام ہنسوی۔۔۔۔۔۔١٢٩٩ھ ٭ حضرت مفتی اعجاز ولی خان بریلوی ۔۔۔۔۔۔ ١٣٩٣ھ ٭ حضرت سیدنا شاہ محمد صادق مارہ روی ٭ حضرت بسم اللہ شاہ (بمبئی)

٢٥ شوال المکرم

٭ حضرت حبیب اللہ محمد بن امام حسن عسکری۔۔۔۔۔۔٣١٧ھ ٭ حضرت شیخ محمد بن احمد اجوبنی ۔۔۔۔۔۔ ٦٥٨ھ ٭ حضرت قاضی شہاب الدین دولت آبادی۔۔۔۔۔۔٨٤٨ھ ٭ حضرت ولی محمد نار نولی ٭ حضرت چونا شاہ بابا

٢٦ شوال المکرم

٭ حضرت صوفی شاہ دلاور علی ابولعلائی ٭ حضرت شمس الدین عبدالعزیز بن غوث الاعظم۔۔۔۔۔۔٥٨٩ھ٭ شاہ ضیاء الدین قادری دہلوی

٢٧ شوال المکرم

٭ حضرت امام ابو القاسم۔۔۔۔۔۔٢٤٧ھ ٭ حضرت ابو بکر محمد کتانی معروف بہ چراغ حرم ۔۔۔۔۔۔٣٢٣ھ ٭ حضرت محمد اصغر عرف محمد ناصر۔۔۔۔۔۔٣٦٩ھ٭ حضرت ابو القاسم سندوسی ۔۔۔۔۔۔ ٤٣١ھ٭ حضرت خواجہ احمد یسوے ۔۔۔۔۔۔ ٥٦٢ھ ٭ حضرت شیخ نجم الدین رازی۔۔۔۔۔۔٦٦٤ھ ٭ حضرت خواجہ سید حسن رسول تما۔۔۔۔۔۔ ١٠٨٨ھ ٭ حضرت میر محمد ہاشم کشمیری۔۔۔۔۔۔١١٣٥ھ ٭ حضرت خواجہ محمد بخش امرتسری لاہوری نقشبندی ۔۔۔۔۔۔١٣٦٣ھ

٢٨ شوال المکرم

حضرت شیخ جنید ثانی۔۔۔۔۔۔١١٩٦ھ ٭ حضرت مولانا حافظ عبدالعلی نگرامی۔۔۔۔۔۔١٢٩٠ھ

٢٩ شوال المکرم

٭ حضرت خواجہ اسحق چشتی ٭ حضرت شہاب الدین عاشق خدا۔۔۔۔۔۔٦٦٦ھ٭ حضرت محمد سلیمان خراسانی۔۔۔۔۔۔٧٢٥ھ٭ حضرت مولوی غلام محی الدین بگوی۔۔۔۔۔۔١٢٧٣ھ٭  علامہ دوست محمد بن محمد امیر حنفی افغانی ۔۔۔۔۔۔١٣٢٨ھ٭ حضرت فتح محمد اچھروی نقشبندی ۔۔۔۔۔۔١٣٣٥ھ ٭  حضرت سید محمد شاہ الحسینی (دادو) ۔۔۔۔۔۔١٣٧٩ھ ٭ حضرت پیر سید معصوم شاہ ۔۔۔۔۔۔١٣٨٨ھ

٣٠ شوال المکرم

٭ حضرت ملا عبدالغفور خورجوی۔۔۔۔۔۔١٢٥٩ھ
 
 (رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم ورحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین)

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc4/59896_429465570333_672380333_5641443_4560674_n.jpg

Saturday, July 16, 2011

FAKE ISLAMIC WEBSITES

FAKE ISLAMIC WEBSITES

 

بسم الله الرحمٰن الرحيم

Assalaamu Alaikum

List of Websites those are misleading the Muslims and non-Muslims about Islam by providing/offering FAKE Quran, Ahadith, Verses, Surah’s, and other maertials of islam …The list may not be complete all the time, as growing of internet and websites against Islam,but We are trying our best to publish the complete list of sites as soon as We Discover such sites/links.

List of Fake sites &  Anti-Islamic sites : :

  • Fake American Quran
  • http://www.islam-exposed.org/
  • http://www.answering-islam.org/
  • http://www.convertstoislam.org/
  • http://www.thequran.com/
  • http://www.aboutislam.com/
  • http://www.allahassurance.com/
  • http://www.FaithFreedome.org
  • http://www.Islam-Watch.com
  • http://www.wikiislam.com
  • http://www.light-of-life.com
  • http://www.thereligionofpeace.com/
  • http://www.jihadwatch.org/
  • http://www.answering-islam.de/Main/index.html
  • http://www.prophetofdoom.net/
  • http://www.uacradiojihad.com/
  • http://www.apostatesofislam.com/index.htm
  • http://www.islam-watch.org/index.html
  • http://khalas.wordpress.com/
  • http://www.prophetmohammed.co.uk/
  • http://www.geertwilders.nl/
  • http://www.inthenameofallah.org/
  • http://www.allaboutmuhammad.com/
  • http://islam-documents.org/
  • http://www.faithfreedom.org/
  • http://www.stopsharialaw.com/
  • http://adeeperlookweblog.blogspot.com/
  • http://www.muslimhope.com/
  • http://www.islameyat.com/
  • http://www.islamreview.com
  • http://www.muhammadanism.com/
  • http://www.thequran .com
  • http://www.mosque. com
  • http://www.newislam .org/
  • http://www.islam- exposed.org/
  • http://answering- islam.org. uk/
  • http://www.answeringinfidels. com
  • http://www.islamund ressed.com/
  • http://www.challeng ing-islam. org/
  • http://www.exmuslim .com/
  • http://www.apostatesofislam. com/
  • http://www.muhammadtube.com/
  • http://investigateislam.com
  • http://answering-islam.org
  • http://carm.org
  • http://inthenameofallah.org
  • http://thespiritofislam.com/index.html
  • http://www.muslimhope.com/
  • http://www.muhammadanism.com/
  • http://debate.org.uk/
  • http://www.answeringmuslims.com/
  • http://www.answering-islam.org.uk/
  • http://bibleandquran.org/
  • http://koran.jcsm.org/biblelessons/TheKoran.htm
  • http://muhammadorjesus.googlepages.com/home
  • http://www.muhammadlied.com/
  • http://www.rim.org/muslim/shiite.htm
  • http://www.joelstrumpet.com/
  • http://www.ministrytomuslims.com/
  • http://morethandreams.org/
  • http://www.muslimjourneytohope.com/
  • http://www.islamexplained.com/
  • http://www.islam-documents.org/
  • http://peace-of-mind.net
  • www.abrahamic-faith.com%2f
  • www.answering-islam.org%2f
  • www.apostatesofislam.com/main.htm
  • www.debate.org.uk/topics/coolcalm
  • www.bible.ca/islam/dictionary/index.html
  • www.lexicorient.com/e.o/
  • www.exmuslim.com/
  • www.embark.to/ams
  • re-xs.ucsm.ac.uk/gcsere/glossaries/islamglos.html
  • www.holycrime.com/
  • www.jihadwatch.org/
  • www.bible.ca/islam/welcome.htm
  • www.thereligionofpeace.com/
  • www.islamreview.com/index.htm
  • www.loyalistparty.com/
  • www.middle-east-info.org/
  • www.muhammadanism.org/
  • www.muhammadlied.com
  • www.homelandsecurityus.com/
  • www.prophetofdoom.us/
  • www.6thcolumnagainstjihad.com/
  • www.davidjohnsonbooks.com/
  • www.islamicthreat.com/
  • www.victimsofjihad.com/
  • www.voiceofthebelievers.com/
  • www.shoebat.com/
  • www.worldthreats.com/
  • www.zennahministries.com/
  • http://www.terrortracker.co.uk/
  • http://mosquewatch.blogspot.com/
  • http://www.sheikyermami.com/
  • http://littlegreenfootballs.com/weblog/
  • http://www.danielpipes.org/
  • http://www.answering-islam.org/
  • http://www.prophetofdoom.net/
  • http://ayaanhirsiali.web-log.nl/ayaanhirsiali/english/index.html/
  • http://www.prophetmohammed.co.uk/
  • http://www.atheists.org/Islam/mohammedanism.html
  • http://www.maryamnamazie.com/index.html
  • http://www.memritv.org/
  • http://www.skepticsannotatedbible.com/quran/index.htm
  • http://taslimanasrin.com/
  • http://www.islam-watch.org/
  • http://www.free-minds.org
  • http://www.muslimhope.com
  • http://www.inthenameofallah.org
  • http://www.al-qiyamah.org
  • http://www.islamic-world.net
  • http://al-kafi.org
  • http://www.ezsoftech.com
  • http://realmuhammad.info
  • http://www.islamic-teaching.com
  • http://www.aaiil.org
  • http://www.islam-watch.org
  • http://www.muslim.org
New Addition :
  • http://www.alislam.org/ (Ahmadis/ Kafir Qadiyaanis))
  • http://www.al-islam.org (shia)

ALLAH SWT KNOWS BEST

 


Reality of Shab E Barat By Hafiz Ibtisam Elahi Zaheer

Reality of Shab E Barat By Hafiz Ibtisam Elahi Zaheer

 Islam is the religion chosen by Allah swt and it guides the humanity in all spheres of life. All the good deeds which are source of reward and all the bad deeds which are source of earning wrath of Allah swt have been mentioned clearly in Quran and authentic hadiths.

Rasool salal laho aliehi wasalam is the last messenger of Allah swt and his words and sayings besides Quran are authority for us.Allah swt has clearly stated in Holy Quran:
Indeed in the Messenger of Allâh (Muhammad SAW) you have a good example to follow for him who hopes in (the Meeting with) Allâh and the Last Day and remembers Allâh much. (Al-Ahzab 33:21)

On another instance Allah swt says:
He who obeys the Messenger (Muhammad SAW), has indeed obeyed Allâh, but he who turns away, then we have not sent you (O Muhammad SAW) as a watcher over them. (An-Nisa 4:80)

These verses of Quran clearly indicate that sayings of Rasool salal laho aliehi wasalam are authority in matters of deen .
Now we should look in to the matter of Shab e baraat in light of Quran and Sunnah .

It is an obvious fact that Quran was revealed in month of Ramadan from Loh e Mehfooz to first heavens in Night of Qadar .This reality has been elaborated in Holy Quran in following way:

Verily! We have sent it (this Qur'ân) down in the night of Al-Qadr (Decree) (Al-Qadr 97:1)
And Allah swt has also made it clear in the Holy Quran that in this night decisions are made.

Allah swt says:
Therein descend the angels and the Rûh [Jibrael (Gabriel)] by Allâh's Permission with all Decrees, (Al-Qadr 97:4)

So it is clear that decisions about human beings are made in night of Decree which is the night of Ramadan .

Now Some of the people have innovated the idea of another night and named it has lailah e mubarakah or blessed night and claimed that it is night of 15th Shaban. They quote the verse of Surah Dukhan about it that in this night decisions are made so it should be celebrated like night of Qadar in Ramadan.

When we look into the text of Surah Dukhan it appears as follows:

We sent it (this Qur'ân) down on a blessed night. Therein (that night) is decreed every matter of ordainments. Amran (i.e. a Command or this Qur'an or the Decree of every matter) from Us. Verily, We are ever sending (the Messengers), (Ad-Dukhan 44:3-5)

Now it is very clear that all the matters are decided in blessed night.Now we have to resolve the reality of blessed night in the light of verses of Holy Quran .In surah Qadar Allah says that it was revealed in night of decree and in this night all matters are decided.On the other instance in Surah Dukhan Allah says that it was revealed in blessed night in which all matters are decided .

It is clear from these two surahs that blessed night and night of decree are the names of same night like Muhammad and Ahmad salal laho aliehi wasalam are the name of same prophet .There is no difference between these two nights .So any one who want to seek the blessings of Allah in blessed night he should search it in last five odd nights of Ramadan .

When we consult hadiths on this particular issue we come to know that there is no authentic hadith that highlights the significance of this particular night.There are some weak hadiths but they cannot be taken as authority on this issue.

Prophet salal laho aliehi wasalam used to fast on 13th 14th and 15th of every month so any one who fasts on these nights he should also fast on 13th 14th and 15th of Shabaan.
But as far as the fasting on 15th of shabaan only is concerned it is not proved from any authentic hadith .So what we have to do is to follow Quran and hadith in all matters of life .May Allah guide us all to right path ameen. 

By Hafiz Ibtisam Elahi Zaheer 

Very bright Scholar of Pakistan

Friday, July 1, 2011

40 hadith!! for husband + wife

shallah you will all find thisof great benefit!!
HADITH 1
On the occasion of Hajjatul-Wida (The Farewell Hajj) Rasulullah among other advices said with regard to women; "0 People! fear Allah with regard to your wives. You have taken them into your possession with the permission of Allah."
*This hadith clearly admonishes man not to abuse his authority over woman and to fear his Creator in regard to his dealings with them as Allah has placed them in his trust, by making them lawful for him through the sacred bond of nikah. If the husband maltreats them, in reality he is misappropriating the trust that Allah has entrusted to him,
What an honourable position Islam has secured for women that Allah himself takes their affairs as His responsibility!
HADITH 2
Rasulullah [Sallallahu Alayhi Wasallam) said: "I enjoin upon you the importance of good conduct f to your womenfolk"
*Good conduct and behavior is necessary towards; everyone but Rasulullah has; singled out womenfolk with the emphatical term of "wasiyat" which everyone grants great importance and significance, This is sufficient to explain the importance of kindness to women.
HADITH 3 & 4
Rasulullah [Sallallahu Alayhi Wasallam) said: "Amongst the most perfect of mumins in Imaan is he who is best Character and amongst the best of them is he who kindest towards his wife."
HADITH 5
Rasulullah said: "He is the best amongst you who is the kindest towards his wives and I am the kindest amongst you towards my wives."
*Thus Rasulullah not only issued a theoretical directive towards achieving superiority amongst the mumins but he also achieved this distinction amongst the rest of his followers by practically displaying the ultimate degree of kindness and affection towards his family
HADITH 6
Rasulullah said: "The woman who dies in the state of her husband being pleased with her will enter Jannah ."
*How simple Islam has made matters for the believing women that for them paradise can be acquired by minimal effort.
HADITH 7
Hazrat Abu Darda (R.A.) said: My beloved master, Rasulullah advised me to spend upon my family according to my means."
HADITH 8
Rasulullah said: "The woman I that does her domestic chores attains the rank of those upholding Jihaad."
HADITH 9
Rasulullah said: "By assisting your wives in their household matters you men receive the reward of sadaqah "
*The religion of Islam has encouraged men to assist their wives by promising them rewards for this service. In this way Islam has secured the comfort of women.
HADITH 10
Rasulullah said: "The woman who reads her five namaazes, fasts in the month of Ramadhan, protects her chastity and is obedient to her I husband; such a woman will enter into Jannah from any of the doors she wishes to enter from."
*In other words if she fulfils the basic Islamic duties upon (her then without great exertion in ibadah and worship she will attain lofty stages.
HADITH 11
Rasulullah said: "The woman that is obedient and subservient to her husband; the birds in the air, fish in the sea, angels in the sky and animals in the jungles seek forgiveness for her"
*After her sins have been forgiven her stages are elevated.
HADITH 12
Rasulullah (Sallallahu Alayhi Wasallam) said: "0 women! Remember, those who are pious and upright amongst you they will enter Jannah before the pious men. These women will then be bathed, perfumed, and presented to their husbands on red and yellow mounts. They will have such children with them who will resemble scattered pearls."
HADITH 13
Rasulullah said: "Allah's mercies decends upon those women who perform their tahajjud salaat and awaken their husbands also to do the same".
HADITH 14
Rasulullah said: "The woman that dies in her virginity or during her pregnancy or at the time of birth or thereafter will attain the rank of shahadat ".
HADITH 15
Rasulullah said: "Does it not please you that when you conceive from your husband while he is pleased with you then that woman will receive such reward equal to that of a person fasting in the path of Allah and spending the night in worship; then when her labour pain commences the inhabitants of the earth and the sky are unaware of the stores of comfort that are prepared for her; when she delivers and breastfeeds her child then she will be granted a reward for every gulp of milk; and if she had to remain awake during the night for the sake of her child she will receive the reward of emancipating seventy slaves in the path of Allah. O Salamat! do you know who these women are? They are pious, upright, delicately natured but yet are obedient to I their husbands and not ungrateful to them."
HADITH 16
Rasulullah said: "When a woman spends from her husbands wealth in Allah's path, without destroying his property then she is also rewarded for spending from his wealth. The husband is also, rewarded, for earning the wealth and the treasurer also receives rewards. None of their rewards are decreased."
HADITH 17
Rasulullah said: "0 women! Your jihaad is haj."
HADITH 18
Rasulullah said: "Women do not have to perform the jihaad, the Juma prayers or the janaza salaat."
HADITH 19
Rasulullah said: "Allah is pleased with those women who love and have affection for their husbands and protect themselves from other men."
*It means that they are not ashamed of pleasing and showing their love for their husbands as is the habit of proud women. Allah's pleasure is a great treasure.
HADITH 20
Rasulullah said: "Women are part of men."
HADITH 21
Rasulullah said: "Accept my goodly advice with regard to women because they have been created from a rib."
*It means that perfection and rectitude should not be sought of them as it is not within their nature; thus men should patiently overlook their faults and shortcomings.
HADITH 22
Rasulullah said: "The best of women is one that pleases her husband when he glances at her; obeys him when he commands her and does not oppose him and displease him in matters regarding her body and wealth."
HADITH 23
Rasulullah prayed "May Allah's mercy be upon those women who don the izaar (trouser)"
*In other words they take extra precautions in concealing their bodies and maintaining their purdah.
HADITH 24
Rasulullah said: "The evil of an evil woman surpasses the evil of a thousand wicked men and the virtue of a virtuous woman surpasses the worship of seventy Awliya (pious servants of Allah)".
HADITH 25
Rasulullah said: "The best amongst your wives are those that are most chaste and pure and greatly love their husbands"
*Loving one's husband is pleasing to the nafs yet it has been made an act of reward and virtue.
HADITH 26
One person said to Rasulullah "When I enter my home my wife says to me 'Welcome O my sardar (master) and the master of my house!' and when I am grieved over anything she consoles me by saying 'Why be grieved over a wordly matter; your hereafter is being made. Rasulullah said: "Inform this woman that she is amongst those who are doing the work of Allah and she receives half the reward of those doing jihaad."
*Such great rewards merely on welcoming the husband home and consoling him on his troubles.
HADITH 27
Asma bint Yazeed (R.A.) once came to Rasulullah as an ambassador of the ladies and said "Men have surpassed us in rewards through juma, congregational prayers, visiting the ill, participating in funeral prayers and protecting the borders of the Islamic State." Rasulullah sent her with the message "Your adorning and beautifying yourselves for your husbands and your strivings to please your husbands and your obedience to the wishes of your husbands equals these actions (juma, jihaad etc.) in rewards."
HADITH 28
Rasulullah said: "A woman, from her pregnancy to the time of weaning her child is like one protecting the boundaries of the Islamic State; and if she expires during this period she attains the reward of martyrdom."
HADITH 29
Rasulullah said: "When the woman breastfeeds then on every gulp of milk she receives the reward as though she has granted life to a being and when she weans her child then the angels pat her on her back saying "Congratulations! all your past sins have been forgiven; now start all over again."
*By sins is intented the minor sins; this is also a great reward
HADITH 30
Hadrat Aisha (R.A.) reports that "The woman whose husband is absent and in this state she protects her chastity, leaving all forms of beautification and adornment, remaining within her home and remaining steadfast on namaaz; she will be resurrected on the day of Qiyamah as a Virgin girl. If her husband was a mu'min (believer) then she will remain his wife in jannah; and if he happens to be a disbeliever then she will be married to a martyr."
HADITH 31
Hadrat Ali (R.A.) said: "Man cannot become the leader of his house unless he is not concerned about what he wears and how he appeases his hunger."
*These who are only concerned about their own needs in food and dressing and neglect their families should take heed from this.
HADITH 32
Hakim bin Mua'wiya (R.A.) enquired from Rasulullah regarding the rights of women over their husbands? Rasulullah said: "When you eat, feed her and when you dress, dress her; do not smite her accross the face and do not boycott her but within the house."
*Do not leave her alone in the house in the state of anger and dissappear.
HADITH 33
Rasulullah said: "The mu'min husband should not dispise his mu'min wife because if there is any quality he dislikes in her he will certainly be pleased another."
HADITH 34
Rasulullah said: "The woman whose three children die and she patiently bears this tragedy, in the hope of reward, will be granted jannah. One woman enquired what the reward of two children was? He replied "The same reward."
HADITH 35
One Sahabi (R.A.) enquired about the reward of one child? He replied "This also carries tremendous rewards."
HADITH 36
Rasulullah said: "Even the miscarried foetus will drag it's mother towards jannah if she exercised patience with the hope of acquiring rewards."
HADITH 37
Rasulullah said: "The best of wealth is a righteous woman who pleases her husband when he sees her; she obeys whenever he commands her and when her husband is absent she protects her chastity and respect."
HADITH 38
When Rasulullah used to be in privacy with his wives he would be extremely kind and obliging and would smile and remain pleased with all.
HADITH 39
Rasulullah said: "0 Man! there is reward for you even in having sexual relations with your wife.
HADITH 40
On the occasion of the journey of the farewell Hajj the womenfolk were mounted on camels that were being driven fast, upon which Rasulullah prevented this saying "They (women) are (comparable to) glass (in fragility). Steer (their camels) slowly."